
اےآر رحمان اپنی اہلیہ کےہمراہ
دلیپ کمار
سے اللہ رکھا رحمان تک
قیصرصغیر
میو
قسط
نمبر 5
دلیپ
کمار اور ان کی فیملی کےلئے
یھ وقت بہت مشکل کا تھا کہ انہیں بہن کی صحت یابی کی
کوئی
امید نہ نظر آ رہی تھی ۔اس کی حالت روز بروز بگڑتی ہی
چلی جا رہی تھی۔دلیپ کمار نے مندر سے گرجا گھر تک
کوئی
جگہ نہ چھوڑی کہ جہاں جا کر بہن کی صحت یابی کے
لئے
دعا نہ کی ہو مگر کچھ کارگر نہ ہوا۔ تب ایک وقت ایسا
بھی آیا کہ وہ لوگ بہن کی زندگی سے ہی مایوس ہو چلے
تھے۔انہی دنوں کسی نے انہیں ایک مسلم پیر کا بتایا کہ
ان کے مزار پر جا کر دعا کرو اوریہیں سے صحیح معنوں
میں ان کی زندگی نے
ایک نیاموڑ لیا اور وہ راہ حق کے مسافر
بنے۔ یہ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی یا پیر قادری کہلاتے
تھے۔دلیپ کمار کے والد جن دنوں شدید بیمار تھے ' ان
دنوں بھی فیملی نے ان پیر کےہاں جا کر دعا کی تھی مگر
شاید اس وقت تک بہت تاخیر ہو چکی تھی کہ
دعاءوں
اور دواءوں
نے اثر نہ کیا۔ تاہم اس مرتبہ وہ مایوس نہ لوٹے تھے۔
بہن کی صحت یابی نے اس خاندان کو امید کی ایک کرن دے
دی اور دلیپ کمار اور ان کی والدہ اسلام قبول کر کے
مسلمان ہو
گئے
۔ تاہم انہوں نے اس
کے
لئے
اپنی بہنوں کو مجبور نہ کیا تھا ۔ نومسلم اللہ رکھا
رحمان کی خواہش تھی کہ ان کی بہنیں کسی جبر کے تحت
نہیں بلکہ اسلام کی اصل روح کو محسوس کر کے ایمان
لائیں
تو اس پر
قائم
بھی رہ سکیں گی۔اللہ رکھا، المعروف اے آر رحمان کہتے
ہیں کہ اسلام نے مجھے سکون دیا ہے۔جب
دلیپ
کمار تھاتواحساس کمتری محسوس کرتا تھا مگر اب اللہ
رکھا کے طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے میں دُھل کر
پاک ہو گیا ہوں۔
قبول
اسلام سے قبل دلیپ کمار کے والد اور والدہ دونوں علم
النجوم میں یقین رکھتے تھے۔ قبول اسلام کے بعد ان کی
والدہ انہیں ایک ماہر علم النجوم کے پاس لے
گئیں
اور دلیپ کمار کا اسلامی نام تجویز کرنے کے
لئے
کہا ۔ ماہر علم النجوم نے دلیپ کو دیکھتے ہی کہا کہ اس
کا نام عبد الرحمان رکھا
جائے
اور مختصر کر کے اے آر رحمان پکار سکتے ہیں۔جب اے آر
رحمان کی والدہ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اے کے بعد آر
کیوں کہا ہے تو جواب ملا کہ آپ میری بات نوٹ کر
لیجئے
کہ یہ نوجوان ایک دن بہت نام پیدا کرے گا۔اے آر رحمان
کی والدہ نے ایسا ہی کیا ' تاہم بعد میں میوزک کمپوزر
نوشاد علی کی تجویز پر اے آر کو اللہ
رکھا
رحمان کے طورپر لیا جانے لگا تھا۔
اے
آر رحمان سے جب پوچھا گیا کہ ان کے اسلام قبول کرنے کا
اہم سبب کیا بنا
تھا
تو انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے
والد کی بیماری اور تکالیف یاد ہیں جنہیں علاج کے
لئے
نو دس ہسپتالوں میں لے جایا گیا تھامگر انہیں صحت نہ
ملی ۔انہیں جسمانی تکلیف سے تڑپتے دیکھ کر میں خود بھی
بے چین ہو جاتا تھا ۔عیسائی
پادری ہسپتال میں ان کے بیڈ کے کنارے کھڑے ہو کر دعا
کرتے
، بائبل
سے شفا کا کلام پڑھتے۔پنڈتوں نے پوجااوریاگنا کی مگربہتری
کے آثار نظر نہ
آئے۔اور
جب ہم مسلم پیر کے پاس
گئے
تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔میرے والد ہمیں روتا
چھوڑ
گئے۔
میں چونکہ بہت کم عمر تھا لہذا میرے دل میں بغاوت کے
بھی خیالات
آئے۔مجھے
لگا کہ جیسے خداہے ہی نہیں ۔
لیکن اس کے باوجود دل میں
ایک بے چینی سی تھی۔کہیں اور کسی کام میں دل نہ لگتا
تھا اور نہ سکون ملتا تھا۔مجھے احساس ہوا کہ اگر
کوئی
طاقت ہمیں کنٹرول نہ کر رہی ہو تو زندگی کا کیا جواز
رہ جاتا ہے؟یقیناً
کوئی
تو ہے جو اس دنیا کا نظام چلا رہا ہے۔اور یقیناً وہ
خدائے
واحد ہے وگرنہ اس دنیا کا نظام انتشار کا شکار ہو
جاتا۔پھر جس چیز کی مجھے تلاش تھی
' وہ مجھے اسلام میں ملی۔میں اپنی ماں
کے ساتھ درگاہوں پر حاضری دینے لگا۔پیر کرم اللہ شاہ
قادری اس حوالے سے ہماری رہنمائی
فرماتے تھے اور پھر ایک دن ہم نے اپنے
لئے
دین اسلام کا انتخاب کر لیا۔یہ سفر یقیناً
کوئی
آسان سفر نہ تھا اور ایک کے بعد مشکلات کا بھی ہمیں
سامنا کرنا پڑا۔
( جاری
ہے)
|